السبت، 15 سبتمبر 2012


حضرت محمد ﷺامن کے پیامبر
(اس مقالہ کو بروز جمعہ:01 /03/ 2002 ء کو اسکس ہال ،مالیگاؤں میں پیش کی گیا)
                        الحمد ﷲ نحمدہ ونستعینہ........الخ
            امابعد ! یقول اﷲ تعالیٰ : ﴿وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ (190) وَاقْتُلُوْهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَاَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّى يُقتِلُوْكُمْ فِيْهِ فَاِنْ قتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ ۭكَذٰلِكَ جَزَاءُ الْكفِرِيْنَ﴾ ( البقرہ: ١٩٠-١٩١)
            وقال فی موضع آخر :﴿وَقتِلُوْهُمْ حَتّى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلهِ  فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَي الظّلِمِيْنَ﴾ (البقرة:١٩٣)
            برادان اسلام ! آج کے اس پرگرام میں مجھے جو عنوان دیا گیا ہے وہ ہے :”حضرت محمدﷺامن کے پیامبر“
            اس عنوان کے اختیار کرنے کی غالبا ًوجہ یہ ہے کہ مسلمان اس وقت پوری دنیا میں ظلم و ستم کا شکار ہیں ، اور عالمی صہیونی و صلیبی طاقتوں اور ان کے حلیف و معاون تمام اعداء اسلام نے امریکہ و برطانیہ کی قیادت میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بزن بو ل دیا ہے ۔ چنانچہ آج مسلمان جس قدرذلیل و خوار اور مظلوم و مقہور ہیں ، اور جس طرح آج ان کے خون کی ارزانی ہے ، اور ان کی جان ومال ، عزت و آبرو ،دین و عقیدہ ،و تہذیب وزبان اور عبادت گاہیں و مقدس مقامات غیر محفوظ ہیں اس طرح کبھی نہیں تھا،آج ان کی حالت لفظ بلفظ اسی طرح ہے جس کی جانب آقائے نامدار، تاجدار مدینہ احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ نے حدیث میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا : ”يُوشِكُ الأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا , فَقَالَ قَائِلٌ : وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ : بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ , وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ , وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِى قُلُوبِكُمُ الْوَهَنَ , فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا الْوَهَنُ؟ قَالَ : حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ“ (رواہ ابوداود:4/184 ، كتاب الملاحم باب فى تداعى الأمم على الإسلام  حدیث رقم:٤٢٩٧)  ایک وقت ایسا آئے گا جب تمہارے اوپر مختلف قومیں اس طرح ٹو ٹ پڑیں گی جس طرح کھانے والے کھانے کے پیالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ،کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہوگی اور ہماری قلت کی وجہ سے ایسا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا :اس وقت تمہاری تعداد بہت ہوگی ،لیکن تمہاری حیثیت سیلاب میں بہنے والے خس وخاشاک کی طرح ہوگی ،اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت کو نکال دے گا ، اور تمہارے دلوں میں ”وھن “ڈال دے گا۔ پھر ایک کہنے والے نے کہا: اے اللہ کے رسول وھن کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: دنیا کی محبت اورموت کی ناپسندیدگی وکراہیت ۔
            آج پوری دنیا میں مسلمانوں کی حالت پر نظر ڈالئے، آپ کو رسول اللہﷺکی یہ پیشن گوئی لفظ بلفظ صحیح نظر آئے گی، بوسنیا اور ہرسک میں جس طرح مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔ عورتوں کی ابرو ریزی و بے عزتی کی گئی، نہایت وحشیانہ انداز میں ان کے پیٹ چاک کئے گئے اور حمل کو نکال کراور چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو نیزوں پر اچھالا گیا ، سیکڑوں لوگوں کو اجتماعی طور سے قتل کرکے بڑے بڑے گڈھوں میں دفن کردیا گیا ، ان کے گھر بار ، دوکانوں ،کارخانوں ، کھیتوں اور تمام جائداد کو لوٹ کر یا جلا کر ختم کر دیاگیا،اس سے ساری دنیا واقف ہے ، افغانستان میں امریکہ اور اس کے حلیفوں نے جو خونریزی کی اور تباہی مچائی اور انسانوں سے لیکر پہاڑوں اور جنگلوں تک کو مشق ستم بنایا اور القاعدہ کے قیدیوں کے ساتھ کیوبا وغیرہ میں جو وحشیانہ سلوک کیا گیا اور کیا جارہا ہے اس کی رپورٹیں آئے دن ٹی وی ،ریڈیو اور اخبارات میں آتی رہتی ہیں،ابھی گجرات میں سنگھ پریوار نے جس بربریت کا مظاہرہ کیا وہ انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے ، اور اس کو دنیا قیامت تک یاد رکھے گی ، فلسطین میں امریکہ اور دوسری صہیونی و صلیبی طاقتوں کی خاموش تشجیع سے اسرائیل جو قیامت برپا کئے ہوئے ہے وہ ہر شخص کے لئے اظہر من الشمس ہے ، عراق میں اس سے قبل امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جو کچھ کیا وہ مخفی نہیں ، اور ابھی امریکہ و برطانیہ کی اس کے سلسلہ میں اور بعض دوسرے اسلامی ممالک کے سلسلہ میں جو نیتیں ہیں وہ بھی واضح ہیں ۔
            اور بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان جرائم میں کبھی در پردہ اور کبھی اعلانیہ اکثر و بیشتر اعداء اسلام شریک رہے ہیں اور سبھی مل کر  مسلمانوں کو لقمہ تر سمجھ کر ان پر اس طرح ٹوٹ پڑے ہیں جس طرح کھانے والے کھانے کی پلیٹوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ بہر حال رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں جو پیشین گوئی فرمائی تھی وہ حرف بحرف صحیح نظر آرہی ہے، اور کیوں نہ ہو آپ صادق ومصدوق تھے اور آپ کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ نے شہادت دی : ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى(3) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحى﴾ (النجم :3-4)  آپ اپنی جانب سے کچھ نہیں بولتے ، آپ کی ہر بات وحی ہوتی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل کی جاتی ہے ۔
            معزز حاضرین ! ایک طرف تو مسلمانوں کو پوری دنیا میں مشق ستم بنایا جارہا ہے اور ان پرظلم و ستم کے تمام ریکارڈ توڑے جارہے ہیں ، دوسری طرف اعداء اسلام نے پوری طاقت سے یہ شور مچانا اور پروپیگنڈا کرنا شروع کردیا ہے کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے ، اور(نعوذ باللہ) حضرت محمد ﷺ دہشت گرد تھے اور قرآن کریم میں دہشت گردی کی تعلیم ہے ، اور اسلامی مدارس و جامعات دہشت گردی کے اڈے ہیں ،جبکہ یہ حقیقت ہے اور اسے ہر انصاف پسند محقق اور اسکالر کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسلام کے سوا دنیا کا کوئی دین و مذہب امن عالم کی ضمانت نہیں لے سکتا ، اور اسلام کے سوا کسی مذہب اور قانون میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ اس کے ذریعہ حقیقی امن قائم ہوسکے ،دنیا جانتی ہے کہ جس وقت حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی اور اسلام کا سورج طلوع ہوا پورے عالم میں ضلالت و گمراہی ، فتنہ و فساد اور ظلم و ستم کا دور دورہ تھا ، ہر جگہ جدال و قتال ، قتل و خون ریزی، شر و فساداور بد امنی تھی اور دنیا کا کوئی خطہ صحیح طور پر امن و سکون اور چین واطمینان سے نہیں تھا ،زناکاری وبدکاری اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے لے کر راہ زنی وغارت گری ، اور معمولی معمولی باتوں پرخون کی ندیاں بہادینا روزانہ کا معمول تھا ، اور ہرقسم کی سیاسی، اقتصادی اورتمدنی برائیاں اور خرابیاں موجود تھیں ، خاص طور سے عربوں کی حالت بہت ہی  زیادہ خراب تھی۔
            ایسے حالات میں اللہ جل شانہ نے حضرت محمد ﷺ کو حق کا داعی اور امن کا پیامبر بنا کر بھیجا اور آپ نے دنیا میں ایسا امن قائم کیا کہ اس کی نظیر ملنی مشکل ہے ،آج اعداء اسلام محمد ﷺ کودہشت گرد اور اسلام کو دہشت گردی کا دین کہتے ہیں، حالانکہ اسلام امن و شانتی کا دین ہے ، اورامن اس کے اصول ومبادی میں سے ایک اہم مبداہے، اسلام نے ابتداء ہی سے امن و سلامتی کی دعوت دی ہے، لفظ اسلام جو اس دین کا عنوان ہے اس کا اصل مادہ ”سلم “ ہے جس کے معنی امن و سلامتی کے ہیں ۔ اس واسطے اسلام اور امن و سلامتی لازم وملزوم ہیں، جہاں صحیح اسلام ہوگا وہاں امن و شانتی ہوگی ، جو سچا مسلمان ہوگا وہ امن پسند اور امن کا پیامبر ہوگا،اسلام اور دہشت گردی کبھی جمع نہیں ہوسکتے اور ایک سچا مسلمان کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا،اس واسطے کہ اس دین کے نازل کرنے والے اللہ اور مسلمانوں کے رب کے اسماء حسنی میں سے ایک نام ”السلام “ہے ،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿هُوَ اللهُ الَّذِيْ لَآ اِلهَ اِلَّا هُوَ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ سُبْحنَ اللهِ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ﴾ (الحشر:23) اور رسول اللہ  ﷺسے منقول اذکار میں سے ہے:”اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْكَ السَّلاَمُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِكْرَامِ“ (صحیح مسلم :2/94 ،کتاب المساجد باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفتہ)اور اللہ کا نام” السلام“اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ خود سلامتی والا ہے اور پوری دنیا کے لئے امن و سلامتی چاہتا ہے،اوراس نے اپنے بندوں کو جو شریعت ، اوراصول و مبادی عطا کئے ہیں وہ امن و سلامتی کے ضامن ہیں۔
            اور ہمارے رسول حضرت محمد ﷺ جن کے ذریعہ اللہ نے ہمیں یہ دین عطا فرمایاہے ہمیشہ امن و سلامتی کے علم بردار رہے، اور آپ کی بعثت تمام کائنات کے لئے سراپا رحمت تھی ،ارشاد باری ہے :﴿وَمَا اَرْسَلْنكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعلَمِيْنَ﴾ (الانبیاء :107) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے، خود رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے :”إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ“(مستدرک للحاکم : 1/91، كتاب الإيمان)میں اللہ کی جانب سے عطا کردہ رحمت ہوں۔اللہ جل شانہ کی اس شہادت اور خاتم الانبیا ﷺ جن کی صداقت کی شہادت رب کائنات نے دی ،شجر وحجر نے دی حتی کہ مشرکین مکہ سے جب آپ نے خطاب کر کے فرمایا : اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے دشمنوں کی ایک فوج ہے جو تم پر حملہ کرنے والی ہے تو کیا تم اس کو مانو گے ؟ تو انھوں نے آپ کی صداقت کی شہادت دیتے ہوئے بے ساختہ کہا:”مَا جَرَّبْنَا عَلَيْكَ كَذِبًا“(صحیح بخاری :6/221 ،كتاب التفسير باب تفسير سورة المسد ، صحیح مسلم :1/134 ،كتاب الإيمان باب فى قولہ تعالى: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ) ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا و صادق پایا ہے ، اور کبھی بھی ہمارے تجربے میں یہ بات نہیں آئی کہ آپ نے کذب بیانی کی ہو۔ اللہ ا ور  اس کے رسول کے اس اعلان و شہادت کے بعد بھلا پادری جیری فال ویل کے اس بکواس کی کیا اہمیت ہے کہ :” محمد ایک دہشت گرد تھے “ یا” اسلام کے پیغامبر تشدد کے حامی اور جنگ پسند تھے“ یا ” حضرت مسیح نے محبت کی تعلیم دی اور صبر و برداشت کی مثال قائم کی لیکن محمد(ﷺ) نے اس کے بالکل متضاد کام کیا اور جہاد کی تعلیم دی“۔
            اسی طرح فرینگ لین گراہم کا” اسلام کو قاتلوں،ڈاکوؤں،شیطانوں اور ملعونوں کا مذہب “ قرار دینا ، اورروبرٹ سن کا اسلام کے بارے میں یہ کہنا کہ ” یہ خیال کہ اسلام امن کا مذہب ہے سب سے بڑافراڈ ہے“ اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اس کا یہ قول کہ” وہ درندہ صفت تھے ، قزاق تھے ، قاتل تھے“ہذیان کے سوا کچھ نہیں ۔
            درحقیقت یہ لوگ امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی اورفرانس جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اسلام کی بڑی تیزی سے مقبولیت اور پیش قدمی سے حواس باختہ ہوگئے ہیں ،یہ آج دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ میں عیسائیت سے متعلق کتابیں کم فروخت ہورہی ہیں اور اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں لوگوں کا اقبال ، مطالعہ اور کتابوں کی طلب کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ صہیونی و صلیبی قائدین اور سنگھ پریوار کے لوگ پریشان ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط پروپیگنڈا کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے اور اسلام کی پیش قدمی کو روکنا چاہتے ہیں ،وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کو مشتعل کر کے ان سے ایسے کام کرائے جائیں جن سے ان کی رسوائی ہو اور ان کے دین کو نقصان پہونچے اور اشاعت رک جائے، اس واسطے مسلمانوں کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے اور ان کے دام فریب میں نہیں آنا چاہئے ۔
             انھیں معلوم ہے کہ حضرت محمد ﷺ دنیا کے سب سے بڑے امن کے پیغامبر تھے ،اگر واقعی انھوں نے سیرت نبوی اور اسلامی تعلیمات کا مطالعہ تعصب کا عینک اتار کر اور پورے ہوش و حواس میں رہ کر کیا ہے تو انھیں اچھی طرح علم ہوگا کہ محمد ﷺ نے شرف نبوت سے سرفراز ہونے سے قبل بھی قتل و خون ریزی اور ظلم و ستم کو روکنے اورعدل وانصاف قائم کرنے کی مہم میں حصہ لیا ہے ، جنگ فجار کے بعد حلف الفضول میں آپ کی شرکت معروف و مشہور ہے جس میں عبد اللہ بن جُدعان تیمی کے مکان پر بنی ہاشم ، بنی مطلب ، بنی اسدبن عبد العزی ، بنی زہرہ بن کلاب ، اور بنی تیم بن مرہ نے جمع ہو کرکے آپس میں یہ عہد و پیمان کیاتھا کہ مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے گا خواہ وہ مکے کا رہنے والا ہو یا اور کہیں کا یہ سب اس کی مدد اورحمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس کا حق دلوائیں گے ۔
            اسی طرح خانۂ کعبہ کی تعمیر کے وقت جب حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھنے کے سلسلہ میں جھگڑا ہوا اور رفتہ رفتہ یہ جھگڑا اس قدر شدت اختیار کرگیا کہ معلوم ہوتا تھا کہ سرزمین حرم میں سخت خون خرابہ ہوجائے گا، ایسے موقع پر ابو امیہ مخرومی نے یہ تجویز پیش کی کہ جو شخص سب سے پہلے مسجد حرام کے دروازے سے داخل ہو اسے حَکَم مان لیں تو لوگوں نے یہ تجویزمنظور کر لی اور اللہ کی مشیئت کہ اس کے بعد سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ،آپ کو دیکھ کرسب لوگ چیخ پڑے :”یہ امین ہیں، ہم سب ان سے راضی ہیں ،یہ محمد (ﷺ)ہیں “، اس کے بعد آپ نے ایک چادر طلب کی اور اس کے بیچ میں حجر اسود رکھا اور متنازع قبائل کے سرداروں سے کہا آپ سب لوگ چادر کا ایک ایک کنارہ پکڑ کر اوپر اٹھائیں ، انھوں نے ایسا ہی کیا ، اورجب چادر حجر اسود کے مقام تک پہونچ گئی تو آپ نے اپنے دست مبارک سے حجر اسود کو اٹھا کر اس کی مقررہ جگہ پر رکھ دیا ، یہ بڑا ہی معقول اور حکیمانہ فیصلہ تھا ، اس پر ساری قوم راضی ہو گئی ، اور قتل و خونریزی کا ایک بہت بڑا حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا۔
             منصب نبوت ملنے کے بعد مشرکین مکہ نے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دیں ، مجنوں ، ساحر اورکاہن کہا ، آپ کے ساتھیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ، یہاں تک کہ انھیں گھر بار چھوڑ کر پہلے حبشہ اورپھر مدینہ ہجرت کرنا پڑا ،طائف والوں نے آپ پر پتھروں کی بارش کی اور لہو لہان کردیا، مگر آپنے انتقامی کاروائی کرنے کے بجائے ان کے لئے ہدایت کی دعا کی، پہاڑوں کے فرشتے نے آکر کہا کہ مجھے اللہ کی جانب سے حکم ملا ہے کہ اگر آپ کہیں تو مکہ والوں کو دو پہاڑوں کے درمیان رکھ کر پیس دوں ،مگر آپ نے فرمایا : نہیں ،اگر آج یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو امید ہے کہ کل ان کی اولاد ضرور مسلمان ہوگی ۔ کوئی بتلائے کہ گالیوں اور پتھروں کے جواب میں دعائیں دینے والے نبی اکرم (ﷺ) دہشت گرد ہیں، اور بے ثبوت الزامات کی آڑ میں افغانستان اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادینے والے دہشت گرد نہیں ؟کوئی بتلائے کہ جیری فال ویل کا یہ کہنا کتنا حق ہے کہ ”حضرت مسیح نے محبت کی تعلیم دی اور صبر و برداشت کی، مثال قائم کی، لیکن محمد نے اس کے بالکل متضاد کام کیا اور جہاد کی تعلیم دی“کیا سرکار دوعالم  ﷺکے اس لا جواب عمل میں محبت کی تعلیم اور صبر و برداشت کی مثال نہیں ہے ۔  
سچ ہے                    گر نہ بیند بروز شپرہ چشم         چشمۂ آفتاب را چے گناہ
اور غالبا ًاسی کو کسی نے کہا ہے       
خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد                    جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
            اور آگے بڑھئے جب اہل مکہ کے ظلم و ستم کا پانی سر سے اونچا ہوگیا ،اور دار الندوہ میں انھوں نے آپ کے قتل کا پلان بنا لیا تو اللہ کے حکم سے آپ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے، یہاں پہونچ کر آپ نے استحکام امن کے لئے انصار و مہاجرین میں مواخاة کرانے کے علاوہ ایک ایسا” صحیفہ“ یا ”دستور العمل“ یا” معاہدہ “ تیار کیا جس کے ذریعہ قریش اوراوس و خزرج وغیرہ مدینہ منورہ کے مختلف قبائل اور یہودیوں کے مختلف قبائل کو متحد کرنے کی کوشش کی اور سب کے حقوق اور واجبات اس طرح متعین کئے کہ کسی پر ظلم نہ ہو اور سب امن و سکون کے ساتھ رہ سکیں، اس معاہدے یا صلح نامہ کو دیکھنا ہو تو مولانا غلام رسول مہر کی ترتیب دی ہوئی کتاب رسول رحمت ص(٢٤٥-٢٤٩) کا مطالعہ کریں، اس معاہدے یا دستور العمل کو ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے سب سے پہلا تحریری دستور قرار دیا ہے ۔ مگر افسوس کہ یہودیوں نے اس معاہدہ کی بار بار مخالفت کی جس کی بنا پر خواطر خواہ فائدہ نہ ہوا ، مگربقول مولانا غلام رسول مہر :” اس دور میں مختلف گروہوں اور جماعتوں کی طبیعتوں اور مزاجوں کا صحیح اندازہ کرتے ہوئے اشتراک کا ایسا جامع اور تمام پہلوؤں پر حاوی منصوبہ تیار کرلینا خود ایک غیر معمولی معجزہ تھا“ ۔
            معزز حاضرین !یہود و نصاریٰ اور مشرکین کو جہاد سے بڑی الرجی ہے ، اور اسے وہ دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ،مگر یہ بھول جاتے ہیں یا جان بوجھ کر فراموش کر دیتے ہیں کہ شریعت محمدیہ نے جہاد کے لئے ایسے شرائط و اصول وضع کئے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے جہاد میں ظلم و ستم اور دہشت گردی کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا،چنانچہ اسلام نے قتل ناحق سے بڑی سختی سے منع کیا ہے، ارشاد ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللهُ اِلَّا بِالْحَقِّ﴾ (الانعام :151) اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کو حرام قرار دیا ہے ، اس کو قتل نہ کرو مگر اس وقت جب حق اس کے قتل کا مطالبہ کرے۔ سورہ مائدہ میں حضرت آدم ﷤ کے دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر کے جس میں ایک نے ظلما دوسرے کو قتل کیا تھا ، فرمایا : ﴿مِنْ اَجْلِ ذلِكَ كَتَبْنَا عَلي بَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اَنَّه مَنْ قَتَلَ نَفْسًابِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا وَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا﴾  (المائدہ:٣٢) اسی بناء پر ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جوکوئی کسی کی جان لے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا زمین میں فساد کیا ہو، تو گویا اس نے تمام انسانوں کا خون کیا، اور جس نے کسی کی جان بچائی تو گویا اس نے تما م انسانوں کو بچایا۔
            اور رسول اللہ ﷺنے فرمایا :”أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَوْلُ الزُّورِ“ بڑے گناہوں میں سے سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور قتل نفس ،والدین کی نافرمانی اور جھوٹ بولنا ہے ،اورایک حدیث میں آپ نے فرمایا:”أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلاَةُ وَأَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِى الدِّمَاءِ“(نسائی:7/84 ،كتاب تحريم الدم باب تعظيم الدم )قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس چیز کا حساب کیا جائے گا وہ نماز ہے اور سب سے پہلی چیز جس کا فیصلہ لوگوں کے درمیان کیا جائے گا وہ خون کے دعوے ہیں۔
            اسلام نے قتال کوایک تو جان و مال ، عزت و آبرو اور وطن کی حفاظت کیلئے مشروع قرار دیا اور فرمایا: ﴿وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ (190) وَاقْتُلُوْهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَاَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّى يُقتِلُوْكُمْ فِيْهِ فَاِنْ قتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ كَذلِكَ جَزَاءُ الْكفِرِيْنَ (191) فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (192) وَقتِلُوْهُمْ حَتّى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلهِ  فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّلِمِيْنَ﴾ ( البقرہ: 190-193)  اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں ان سے اللہ کی راہ میں جنگ کرو ،مگر حد سے تجاوز نہ کرو ( یعنی ظلم پر نہ اتر آؤ) کیونکہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ، ان ظالموں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور جہاں سے انھوں نے تمھیں نکالا ہے وہاں سے انہیں نکال باہر کرو ، کیونکہ یہ فتنہ قتل سے زیادہ بری چیز ہے ،پھر جب تک وہ تم سے مسجد حرام میں قتال نہ کریں تم بھی اس کے پاس ان سے قتال نہ کرو، لیکن اگر وہ تم سے وہاں جنگ کریں تو تم بھی انھیں مارو، کافروں کی یہی سزا ہے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے، تم ان سے برابر جنگ کئے جاؤ یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین صرف اللہ کے لئے ہو، پھر اگر وہ فتنہ برپا کرنے اور دین کے معاملہ میں زیادتی کرنے سے باز آجائیں تو جان لو کہ سزا ظالموں کے سوا اور کسی کے لئے نہیں ہے۔
            دوسرے اپنے دین و عقیدہ کی حفاظت کے لئے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ هذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا وَّاجْعَلْ لنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا﴾ (النساء :٧٥) تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کمزور مردوں ،عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں اے اللہ ہمیں اس بستی سے نکال جہاں کے لوگ بڑے ظالم و جفا کار ہیں اور ہمارے لئے خاص اپنی طرف سے ایک محافظ و مدد گار مقرر فرما۔
            ایک جگہ فرمایا: ﴿اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللهَ عَلي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ (39) الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللهِ كَثِيْرًاوَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحج:٣٩-٤٠)جن مسلمانوں سے جنگ کی جارہی ہے انھیں بھی جنگ کی اجازت دی گئی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں، بیشک اللہ ان کی مدد پر قدرت رکھتا ہے ،یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے صرف اس قصور پر نکالے گئے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ صرف اللہ ہی ہمارا رب ہے ،اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو عبادت خانے ،گرجے ،یہودیوں کے معبد اور وہ مسجدیں بھی ڈھادی جاتیں جہاں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا ہے ، جو اللہ کی مدد کرے گا اللہ بھی ضرور اس کی مدد کرے گا ، بیشک اللہ بڑی قوتوں والا، بڑے غلبے والا ہے ۔
            اور جو لوگ مسلمانوں کی جان ومال اور عزت وآبرو سے تعرض نہیں کرتے،اورنہ انہیں ان کے دین وعقیدہ پر عمل کرنے سے روکتے ہیں ایسے لوگوں سے اسلام جنگ کرنے سے روکتا ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ وَاَلْقَوْا اِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيْلًا﴾ (النساء:٩٠) پس اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کشی اختیار کرلیں اور تم سے لڑائی نہ کریں اور تمہاری جانب صلح کا پیغام ڈالیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان سے لڑائی کی کوئی راہ نہیں بنائی ۔
            اسی طرح اگر وہ جنگ ختم کر کے صلح صفائی کرنا چاہتے ہوں تو مسلمانوں کو صلح کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ﴿وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ اِنَّه هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ(61) وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللهُ﴾ (الانفال:٦١-٦٢) اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں توآپ بھی صلح کی طرف جھک جائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، یقینا وہ بہت سننے والا جاننے والا ہے اور اگر وہ آپ سے دغابازی کرنا چاہیں گے تو اللہ آپ کے لئے کافی ہے ۔
            ا ور جو لوگ مسلمانوں سے جنگ اور ان کے دین اور وطن پر حملہ نہیں کرتے ان کے ساتھ بھلائی اور حسن سلوک سے بھی اسلام منع نہیں کرتا،    ارشاد ہے: ﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (8) إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (الممتحنۃ:٨-٩)جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں کی اور تمہیں جلا وطن نہیں کیا ان کے ساتھ سلوک و احسان کرنے اور منصفانہ بھلے برتاؤ سے اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں روکتا ،بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی محبت سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائیاں لڑیں اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اورنکالنے  والوں کی مدد کی ،جو لوگ ایسے کفار سے محبت کریں وہ قطعا ًظالم ہیں۔
            ان آیات و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا نظام جہاد دفاع کے لئے اوراپنی جان ومال، عزت وآبرو اور وطن کی حفاظت اور ظلم وتعدی کو روکنے ، اور اپنے عقیدہ و دعوت حق کی حفاظت کے لئے ہے،اس میں دہشت گردی اور کسی پر ناحق ظلم قطعا نہیں ہے۔
            جہاد وغزوات کی آڑ میں حضرت محمدﷺ کی ذات گرامی پر حملہ کرنے والے آئیں اور آپ کے غزوات کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کیا یہ دفاعی جنگیں تھیں یا ظلم وتعدی اور دہشت گردی کی۔
غزوہ بدرکی وجہ:دعوت حق کے شروع ہوتے ہی مشرکین مکہ کی جانب سے مسلمانوں پر ظلم وستم کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوگیا،خود رسول اللہ ﷺ کو طر ح طرح کی اذیتیں دی گئیں اور حق کے پر ستاروں کو صرف اس بنا پر کہ وہ اللہ واحد کی عبادت کرتے ہیں طرح طرح کی ستمرانیوں کا نشانہ بنایا گیا،جب ظلم حد سے تجاوز کر گیا تو رسول اللہﷺ کے ارشاد کے مطابق بہت سے مسلمان حبشہ چلے گئے، مگر کفار قریش نے انھیں وہاں بھی چین سے نہ رہنے دیا ، اور حبشہ سے نکلوانے کے لئے ایک وفدتحفوں کے ساتھ حبشہ بھیجا،تیرہ سال تک ہر طرح کی سختیوں اور بائیکاٹ پر مسلمانوں نے صبر کیا اور جب ان کا خاتمہ ہوتا نظر نہیں آیا اور آپ کے قتل کی سازش کی گئی توانتہائی مصیبتوں کے ساتھ اور پر خطر حالات میں مدینہ ہجرت کی، مگر مکہ سے ڈھائی سو میل دور چلے جانے کے باوجود قریش کو تسکین نہ ہوئی اور انھوں نے رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگوں نے ہمارے آدمی محمد (ﷺ) کو پناہ دی ہے ،یاتو خود اس کے خلاف جنگ کرو اور اسے نکال دو ، ورنہ اللہ کی قسم ہم لاؤ لشکر کے ساتھ تم پر حملہ کردیں گے اور تمہارے مردوں کو مارڈالیں گے اور تمہاری عورتوں کو اپنے لئے جائز سمجھیں گے ،پھر یہودیوں کے ساتھ ساز باز کر کے ( حالانکہ وہ ” معاہدۂ مدینہ “ میں شریک ہوچکے تھے ) مسلمانوں کویہ کہلا بھیجا کہ مکہ سے صاف بچ نکلنے پر مغرور نہ ہونا ،ہم اب بھی تمہیں چھوڑیں گے نہیں ، اور ساتھ ہی چھیڑ چھاڑ بھی شروع کردی، چنانچہ ربیع الاول   ٢ ھ میں کرز بن جابر الفہری مدینہ منورہ پہنچا اور ان مویشیوں کو جو باہر چررہے تھے پکڑ لے گیا ، اورمدینہ کی حالت یہ ہو گئی کہ مسلمانوں کو راتوں کو پہرا دینا پڑتا تھا ، اور جاگ کر راتیں گزارنی پڑتی تھی ، دوسری طرف قریش مسلمانوں سے ایک بھر پور جنگ کے لئے تیاری کر رہے تھے اور اس کے مصارف کے لئے یہ تجوز پاس کی تھی ،کہ اہل مکہ کے پاس جو سرمایہ ہے وہ شام جانے والے تجارتی قافلے کے حوالے کردیا جائے اور جتنا منافع ہو وہ پورے کا پورامسلمانوں کے خلاف سامان جنگ کی تیاری میں لگایا جائے ۔
            یہی تجارتی قافلہ تھاجس پر حملہ کرنا غزوہ بدر میں ابتدا میں مسلمانوں کے پیش نظر تھا ،مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا، چنانچہ یہ قافلہ تو بچ کرنکل گیا ، مگر جو لشکر اس کو بچانے کے لئے مکہ سے نکلا تھا، ابو جہل کے تکبر و اصرار کی وجہ سے وہ واپس ہونے کی بجائے اپنی قہاری و جباری کا رعب جمانے کے لئے دندناتے ہوئے بدر پہونچ گیا ، اور پھر اللہ نے سورہ انفال میں ﴿إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ(انفال:7) کا جو وعدہ فرمایا ، وہ ایسے انداز میں پوراہوا کہ اس سے اسلامی تاریخ میں قلت اور بے سرو سامانی کے باؤجود حق کی فتح اور باطل کی شکست وریخت کا دروازہ کھل گیا۔
            بھلا بتایا جائے کہ کیا ایسے فتنہ پرور دشمنوں کو پیش بندی کے طور پر نقصان پہنچانا، انھیں وسائل جنگ سے محروم کرنا اور مسلح ہوکر حملہ کرنے سے روکنا کس قانون اور منطق سے درست نہیں ہے؟ کیا افغانستان ، عراق ، اسرائیل اور دوسرے بہت سارے ممالک میں مسلمانوں کا قتل عام آج اسی منطق کے سہارے نہیں کیا جارہا ہے؟ جبکہ اس سلسلہ کی ساری مزعومات اور دعوے بے دلیل بلکہ سراسر باطل ہیں ۔
غزوہ احد کا سبب: اور آگے بڑھئے غزوہ احد کا سبب سنئے ، غزوہ بدر میں عبرت ناک شکست کے بعد سے قریش کے دلوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور اس کی تسکین کی خاطر وہ لڑنے کے لئے دیوانہ ہورہے تھے ، چنانچہ جو تجارتی قافلہ صحیح سلامت نکل گیاتھا اس کے منافع کوجو بحیثیت مجموعی پچاس ہزار تھا مسلمانوں سے جنگ کے لئے رکھ لیا گیا ، اورابو سفیان نے اپنی طرف سے اور خاندان عبد مناف کی طرف سے جنگ کی منظوری دے دی ، صفوان بن امیہ بھی جنگ کی تیاری کے لئے پیش پیش تھا ، اس کے لالچ دلانے پر ابوعزہ شاعر اور مسافع بن عبد مناف نے بنو کنانہ کو بھی جنگ پر آمادہ کرلیا، اس طرح قریش نے تین ہزارمسلح جنگ جوؤں کو لے کر مدینہ پر حملہ کردیامجبوراً رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو لے کر جبل احد کے پاس ان کیا مقابلہ کیا ۔
            اب انصاف کے ساتھ بتایا جائے کہ کیا اپنے گھر بار ، عزت و آبرو اور جان و مال کی حفاظت کے لئے جنگ کرنا بھی دہشت گردی ہے ؟
غزوہ خندق کا سبب :اور آگے بڑھئے غزوہ خندق یا احزاب کو لیجئے ، اس غزوہ کے اصل محرک یہودیوں کے مشہور قبیلے بنو نظیر کے چند اکابر تھے ، بنو نظیر کو ربیع الاول ٤ھ میں ان کی ناقابل برداشت فتنہ انگیزیوں اور عہد شکنیوں کی وجہ سے مدینہ چھوڑنا پڑا، ان میں سے اکثر خیبر اور کچھ دوسرے مقامات پرچلے گئے ، مگر ان کے دلوں میں عنا دکی آگ برابر مشتعل رہی ، چنانچہ وہ پہلے مکہ گئے اور قریش کو رسول اللہﷺ سے جنگ کی دعوت دی ، قریش کو اپنا ہم نوابنانے کے بعد غطفان کے پاس پہونچے اور انھیں بھی لالچ دے کر اور قریش کی تیاری کا ذکر کر کے جنگ کے لئے آمادہ کرلیا ، اسی طرح بنو سلیم ، بنو مرہ ، بنو اسد اور قبیلے اشجع کو بھی ساتھ ملالیا اور مسلمانوں کے خلاف مختلف قبائل کو جمع کرنے کے لئے وہی طریقہ اختیار کیا جو فی الحال امریکہ اور برطانیہ نے عراق اور افغانستان کے خلاف جنگ کے لئے پوری دنیا میں گھوم گھوم کر اختیارکیا ، بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی یہ حکمت عملی اسی جنگ احزاب کی حکمت عملی کی نقل ہے ، بہر حال مسلمانوں کے لئے حالات بڑے نازک تھے ،مدینہ منورہ میں سخت سردی کا موسم تھا، سامان کی قلت تھی ، دشمنوں کی بہت بڑی جمعیت کا مقابلہ تھا،( کیونکہ ان کی تعدادکم سے کم دس ہزار بتائی گئی ہے اور ایک روایت کے مطابق ان کی تعداد چوبیس ہزار سے زائد تھی ،جبکہ مجاہدین کل تین ہزارتھے )اس لئے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرا م سے مشورہ کیا ، حضرت سلمان فارسی﷜ نے خندق کھودنے کے تجویزپیش کی، جس کا رواج ایران میں تھا ۔ ان کی تجویز منظور کر لی گئی ،اور مسلمان سخت پریشانی کے عالم میں اس کام میں لگ گئے اور دشمنوں کے حملہ کرنے سے قبل ہی خندق تیار کرلیا ، مگر تھک کر چورچور ہوگئے تھے اور ایسی حالت میں اتنی بڑی جمعیت کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوگیا تھا اور ان کی کیفیت ایسی ہوگئی تھی جس کا نقشہ قرآن کریم نے اس طرح کھینچا ہے :﴿إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا (10) هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا(الاحزاب : 10-11)
             اس وقت کو یاد کروجب وہ تمہارے اوپر (یعنی شمال کی طرف سے) اور تمہارے نیچے (یعنی جنوب کی جانب سے )تم پر آگئے اور جب آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا اور کلیجے دہشت کے مارے منہ میں آگئے اور تم اللہ کے متعلق طرح طرح کے گمان کرنے لگے ، یہیں مومن آزمائے گئے اورپوری طرح جھنجھوڑ دئے گئے۔
            ان حالات میں رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے جودشمنوں کا مقابلہ کیا، کیا اسے دنیا کاکوئی باہوش انسان دہشت گردی اور ظلم و تشدد کہہ سکتا ہے؟
صلح حدیبیہ :یہی حال صلح حدیبیہ کا تھا ، رسول اللہ  ﷺاور آپ کے صحابہ کرام حرمت والے مہینے (ذی قعدہ) میں عمرہ کرنے کے لئے نکلے ،جنگ کی کوئی نیت نہیں ، تیروں اورتلوارں ( جنھیں عرب عام حالات میں بھی اپنے پاس رکھتے تھے )کے سوا کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ، تلواریں بھی میانوں میں تھیں،قریش نے راستہ روکنے اور مزاحمت کرنے کا عزم کیا اور لاؤ لشکر کے ساتھ مقام ذی طوی میں آبیٹھے ،رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر ہو کر چلے ،مگر حدیبیہ کے قریب پہونچ کر آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی اور اسے اٹھانے کی بہت کوشش کی گئی مگر نہ اٹھی، آپ سمجھ گئے کہ یہ اللہ کی جانب سے یہیں قیام کرنے کا اشارہ ہے ،پھر قریش اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان طویل مذاکرہ ہوا ، اور آخرمیں خونریزی سے بچنے کے لئے آپ نے جن شرائط پر صلح کر لی وہ قابل توجہ ہیں:
            ١- دس سال لڑائی موقوف رہے گی ، لوگ امن کی زندگی بسر کریں گے اوراس اثنا میں ایک دوسرے سے ہاتھ روکے رہیں گے ۔
            ٢- مسلمان اس سال لوٹ جائیں ، آئندہ سا ل آئیں ،اورتین دن مکہ میں رہ کر زیارت و طواف کر لیں ،وہ صرف تلوار لے کر آئیں جو میانوں میں ہوں ،اور میان تھیلیوں میں رہیں ۔
            ٣- قریش کا کوئی آدمی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر محمد ﷺ کے پاس پہونچ جائے تو اسے قریش کی طلب پر واپس کردیا جائے گا، مگر محمد (ﷺ) کا کوئی آدمی قریش کے پاس آجائے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا ۔
            ٤-فریقین ایک دوسرے سے بد عہدی یا خیانت نہ کریں گے ، دلوں کی کدورتیں دلوں میں ہی رہیں گی، ظاہر نہ کی جائیں گی ۔
            ٥- جو فرد یا قبیلہ چاہے محمد(ﷺ)سے اور جو چاہے قریش سے معاہدہ کر سکتا ہے اور یہ فریقین کی طرف سے شاملِ معاہدہ مانے جائیں گے ۔
            ان سخت شرائط کی بناء پر بہت سے مسلمان اس معاہدہ سے مطمئن نہیں تھے اور اسے کمزوری سمجھ رہے تھے، مگر قرآن کریم نے اسے”فتح مبین“قرار دیا۔
            ذرا کوئی انصاف پسند بتائے کہ اس طرح کی شرائط پرصلح کر کے جنگ سے اجتناب کرنے والا شخص شدت پسند اور دہشت گرد ہو سکتا ہے ؟
جنگ خیبر کی وجہ:جنگ خیبر کی وجہ یہ تھی کہ یہود خیبر نے غطفان سے ملکر اسلام کے مقابلہ کے لئے سازش کی ،بنو فزارہ بھی ان کے ساتھ ہوگئے ، منافقین مدینہ بھی مسلمانوں کے متعلق انھیں خبریں پہونچاتے رہتے تھے ، عبد اللہ بن رواحہ کے ذریعہ جب تحقیق سے ثابت ہوگیا کہ یہود ایک فوج گراں تیار کر کے مدینہ پریورش کرنا چاہتے ہیں تو اس فتنہ کی سر کوبی کے لئے آپ نے خیبر پر حملہ کیا۔
            اسی طرح ہم جب غزوہ موتہ ، غزوہ حنین اور فتح مکہ کا جائزلیتے ہیں تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ رسول اللہﷺنے جتنی بھی جنگیں کی ہیں وہ دفاعی نوعیت کی تھیں ، اور ان میں ناحق خون بہانے سے حتی الامکان اجتناب کیا گیااور لطف و کرم، عفو و درگزر اور رحمت و شفقت کے ایسا نمونے پیش کئے گئے جن کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے ،اور آج اس ترقی یافتہ اور اخلاق وتہذیب کے دور میں بھی آنکھیں ایسی مثالیں دیکھنے کے لئے ترستی ہیں۔
             اسلام نے حالت جنگ میں بھی عورتوں ، بچوں ، مریضوں ، بوڑھوں ، عابدوں، راھبوں، مزدوروں اور کسانوں کو قتل کرنے سے منع کیا ، مثلہ کرنے سے روکا ، اسی طرح بلا وجہ حیوانات کو قتل کرنے ،کھیتوں اور باغات کو برباد کرنے، کنویں اور چشموں کے پانی کو خراب کرنے اور گھروں کے منہدم کرنے سے منع کیا ہے، رسول اللہ ﷺ جب کسی کو امیر الجیش بناتے تو وصیت کرتے کہ اپنے اور مسلمانوں کے سلسلہ میں اللہ سے ڈرنا، اللہ کی راہ میں اللہ کا نام لے کر غزوہ کرنا ، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے قتال کرنا ، خیانت نہ کرنا ، غداری نہ کرنا ،مثلہ نہ کرنا اور نہ کسی بچے کو قتل کرنا، ایک غزوہ میں آپ نے ایک مقتول عورت کو دیکھا توفوراً حضرت خالد  کو یہ حکم بھیجوایا کہ کسی بچے ، مزدور اور عورت کو قتل نہ کیا جائے ۔
            حضرت ابو بکر صدیق ﷜ نے جب حضرت اسامہ کو شام کی طرف بھیجا تو یہ وصیت کی کہ تم لوگ خیانت نہ کرنا، چوری اور غداری نہ کرنا ، ناک کان نہ کاٹنا ، چھوٹے بچوں ،کھوسٹ بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا ،کھجور کے باغات نہ کاٹا نہ جلانا ، نہ کسی پھل دار درخت کو کاٹنا ،نہ بکریوں ،گایوں اونٹوں کو ذبح کرنا ، سوائے کھانے کے لئے ،اور تمہارا گزر ایسے لوگوں پر ہوگا جنھوں نے اپنے آپ کو عبادت گاہوں میں فارغ کر رکھا ہے ، ان کو بھی چھوڑ دینا ۔ (فقہ السنہ :2/ ٦٥٦-٦٥٧)
            معزز حاضرین ! یادکیجئے کہ مکہ فتح ہو چکا ہے، قریش صحن مسجد میں صفیں باندھے آپ کا انتظار کر رہے ،آپ بیت اللہ کے دروازے کے دونوں بازوپکڑ کر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک عظیم الشان خطبہ پیش کرتے ہیں پھر قریش کو مخاطب کر کے پوچھتے ہیں :بتاؤ تمہارا کیا خیال ہے کہ میں آج تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟سبھوں نے کہا: آپ کریم ہیں، کریم کی اولاد ہیں، آپ سے خیر اور بھلائی کی ہی امید ہے،آپ نے فرمایا:آج میں تم سے وہی کہتا ہوں جو یوسف ﷤نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا:﴿ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف:92) آج میری جانب سے تم پر کوئی سرزنش نہیں۔”اذْهَبُوا أَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ“(سنن الکبری للبیہقی :9/199 ،أبواب السير باب فتح مكۃ حرسها الله تعالى)جاؤ تم سب آزاد ہو۔
            حضرت محمدﷺ کو دہشت گرد کہنے والو اور دین اسلام پر شدت پسندی کا الزام لگانے والواپنی تاریخ کوکھنگال کر دیکھو ،کیا تم اس طرح کمال حسن سلوک،عفوودرگذر اور امن پسندی کی ایک مثال بھی پیش کرسکتے ہو، میں تو کہتا ہوں کہ تاریخ عالم کی ورق گردانی کرڈالئے ،آپ کو اس طرح حسن سلوک اور امن پسندی کی کوئی مثال نہیں ملے گی، یہ عفو عام ان لوگوں کے لئے تھا جواکیس سال تک رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کے خلاف اذیتوں، تکلیفوں اور مصیبتوں کے وہ تمام طوفان برپا کرتے رہے تھے جو ان کے بس میں تھا ،ان کی تلواریں، ان کی برچھیاں، ان کے تیر مسلسل آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر برس رہے تھے۔
            آپ سیر ت نبوی کا مطالعہ کریں تودیکھیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفوان بن امیہ کو معاف کردیاجواسلام اور مسلمانوں کا سخت دشمن تھا اور جنگ احد کی فتنہ انگیزی میں پیش پیش تھا، عکرمہ بن ابی جہل کو معاف کیاجو اسلام کے سب سے بڑے دشمن کا فرزند تھا اور فتح مکہ تک ہر مخالفانہ تحریک میں سرگرمی سے شریک رہا، عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح کو معاف کیا جو اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوگیا تھا اور جھوٹی باتیں کہہ کہہ کر لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کرتا تھا،آپ نے ہبار بن اسود کو معاف کیا جس کے ہاتھوں آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب کو سخت تکلیف پہونچی تھی اور اسی وجہ سے ان کی طبیعت مستقل خراب ہوگئی تھی ،آپ نے وحشی کو معاف کیا جو آپ کے چچا حضرت حمزہ کا قاتل تھا ، ہند بن عتبہ کو معاف کیا جس نے آپ کے چچا حضرت حمزہ کا مثلہ کیا تھا، اور اسلام کی اس قدر شدید دشمن تھی کہ جب اس کے شوہر ابو سفیان نے قریش کو مسلمانوں کا مقابلہ نہ کرنے کا مشورہ دیا تو ان کی داڑھی پکڑ لی اور کہا :  ”اقْتُلُوا الشَّيْخَ الضَّالَّ “(سنن الکبری للبیہقی :7/301 ,أبواب نكاح المشرك باب من قال: لا ينفسخ النكاح بينهما بإسلام أحدهما)اس گمراہ بڈھے کو قتل کردو ۔
            معزز حاضرین ! یہ رسول اللہ ﷺکے عفوو درگزر اورامن پسندی کی چند مثالیں ہیں ، اس مختصر وقت میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں ، اسلام اور رسول اسلام کی تاریخ میں ہیروشیما ، ویتنام اور افغانستان و عراق میں امریکیوں کی وحشت ناک تباہیوں کی کوئی مثال نہیں ملے گی ؟ یہاں بوسنیااور ہرسک میں صربوں اور چیچنیا میں روسیوں کی سفاکیوں کا کوئی منظر نہیں ملے گا ، یہاں صبرا وشاتیلااور انبیاء کی سر زمین فلسطین میں یہودیوں کی جانب سے قتل عام کی طرح کاکائی واقعہ نہیں ملے گا ۔ یہاں فلپین، اریٹیریا اور گجرات میں چنگیز و ہلاکو کو شرما دینے والے قتل و خون ریزی اور بہیمیت کا کوئی سین نظر نہیں آئے گا ۔
            اسلام تو امن کا داعی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی پوری حیات مبارکہ امن کی دعوت اور امن کے قیام میں گزری ، آپ نے تو مسلمانوں کا شعار اور ایمان کی علامت محبت اور امن و سلامتی کو قرار دیااور فرمایا :”لاَ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلاَ تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا , أَوَلاَ أَدُلُّكُمْ عَلَى شَىْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلاَمَ بَيْنَكُمْ“(رواہ مسلم : 1/53 ،کتاب الإيمان باب بيان أنہ لا يدخل الجنۃ إلا المؤمنون) تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ مومن نہ ہواور تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ ایک دوسرے سے محبت نہ کرو، کیا میں تم کو ایک ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم وہ کرلو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو، آپس میں سلام کو عام کرو۔
            آج دوسرے مذاہب کے لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کوئی گڈ مارننگ، اور گڈ ایوننگ کہتا ہے۔ کوئی آداب عرض یا پائیں لاگی کہتا ہے ،مگر اسلام کا حکم ہے کہ جب اپنے کسی ساتھی سے ملو تو سب سے پہلے اسے امن و سلامتی کی دعا دو ،اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہہ کر اسے بتادو کہ ہم امن کے علم بردار ہیں، ہماری جانب سے تمہیں کسی طرح کا خوف نہیں ہونا چاہئے ، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :”السَّلاَمِ قَبْلَ الكَلاَمِ“(رواہ الترمذی :5/59 ،كتاب الاستئذان  باب ما جاء فى السلام قبل الكلام، وقال الالبانی :حسن) پہلے سلام پھر کلام ، اس واسطے کہ سلام کرنا امان دینا ہے ، اور جب تک امن و امان نہ ہوگاکلام نہیں ہوسکتا ۔
            بندہ ٔ مومن تو جب اپنے رب کی عباد ت کرتا اور نماز پڑھتا ہے تو بھی اپنے لئے اوراپنے نبی کے لئے اور اللہ کے صالح بندوں کے لئے سلامتی کی دعا کرتا ہے اور کہتا ہے : ”السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِىُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلاَمُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ“(رواہ مسلم :2/13 ،کتاب الصلاة باب التشهد فى الصلاة) اور جب نماز سے فارغ ہوتا ہے تو بھی دائیں اور بائیں جانب رخ کر کے امن وسلامتی کہ دعا دیتا اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہتا ہے۔
            اسے تو حکم ہے کہ میدان جنگ میں بھی اگر دشمن سے قتال کر رہے ہو اور وہ السلام علیکم کہے تو اسے قتل نہ کرو اور یہ مت کہو کہ یہ دھوکہ دے رہا ہے ، دل کا حال اللہ جانتاہے ، کیا پتہ کہ وہ حقیق امن و سلامتی کا داعی مسلمان ہو، ارشاد باری ہے : ﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء:94)
            معزز سامعین !اسلام نے امن کے قیام ،اور لوگوں کے دین و عقیدہ ، جان و مال ، عزت و آبرواور عقل و خرد کی حفاظت کے لئے ایسے اعلیٰ قوانین بنائے ہیں جن کی تنفیذ کے بعد بد امنی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، چنانچہ قاتلوں کے لئے قصاص کا قانون بنایا اور فرمایا : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ (178) وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة:١٧٨-179)
            اے ایمان والو ! تم پر مقتولوں کا قصاص (اگر اس کے ورثہ چاہیں تو ) فرض کیا گیا ہے ، آزاد آزاد کے بدلے ، غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے ، پھر جس کو اس کے بھائی کی جانب سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کے ساتھ عہد کی پابندی کرنی چاہئے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہئے ، تمہارے رب کی جانب سے یہ تخفیف اور رحمت ہے ، اس کے بعد جو سر کشی کرے اس کے لئے درد ناک عذاب ہوگا ، عقلمندو! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ۔
            یعنی بظاہر قصاص کا حکم بڑا بھاری معلوم ہوتا ہے ، لیکن عقل مند لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ حکم انسانی زندگی کی حفاظت کا بہت بڑا ذریعہ ہے ،کیونکہ قصاص میں قتل کئے جانے کے خوف سے ہر کوئی دوسرے کے قتل سے اجتناب کرے گا، اس طرح قاتل و مقتول اور ان کے خاندان کے لوگ سب کی زندگیاں محفوظ رہیں گی ، مگر افسوس کہ اس قانون کو نام نہاد حقوق انسانی کے علم برداروں نے قبول نہیں کیااور دنیا کے اوباشوں ،غنڈوں اور قاتلوں کے لئے نرم نرم قوانین بنا کر انھیں قتل و خون ریزی کی آزادی اور ڈھیل دے رکھی ہے ، جس سے آج قتل ایک بہت معمولی بات بن کر رہ گیا ہے ۔
             سب کو معلوم ہے کہ زنا ایک بد ترین گناہ اور عظیم سماجی جرم ہے اور اس کی وجہ سے آئے دن جھگڑے فساد اور قتل و خونریزی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ، اس واسطے اسلام نے اس کوحرام قرار دیا ہے ، اور غیر شادی شدہ زانیوں کے لئے سو کوڑے اور سال بھر کے لئے شہر بدر اور شادی شدہ لوگوں کے لئے رجم کی سزا مقرر کی ہے ،تا کہ کسی کو اس قسم کی حرکت کی جر أت نہ ہو ، لیکن افسوس کہ آج تہذیب و تمدن کے ٹھیکے دار زنا اور لواطت کو سند جواز فراہم کر رہے ہیں اور بے حیائی اور فحاشی کی اشاعت کے لئے بھر پور کوشش کررہے ہیں اور پردہ و حجاب کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں، ایسی صور ت میں اس جرم کا انسداد کیسے ہوسکتا ہے؟اور معاشرے کو امن و سکون کیسے مل سکتا ہے؟
            آپ کو معلوم ہے کہ شراب نوشی اور نشہ آور اشیا ء کا استعمال بھی دنگا و فساد اور بد امنی کا باعث ہے اور اسی لئے اسلام نے اس کو نہ صرف حرام قرار دیا بلکہ اسے بغض و عداوت کا محرک اور شیطانی عمل قرار دیتے ہوئے اس کی سزا اسّی کوڑے مقرر کی ہے، مگر مغربی تہذیب (جو در اصل یہودی و نصرانی تہذیب ہے) کے علم برداروں کے یہاں یہ مہذب اور اعلیٰ سوسائٹی کے لوگوں کی علامت اور شان بن گئی ہے، مال کی حفاظت کے لئے اسلام نے چوروں کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تاکہ چوروں کو سزا ملے اور دوسروں کو اس سے عبرت ہو ۔
            غرضیکہ اسلام نے قیام امن کے لئے ایسے اصول و ضوابط وضع کئے ہیں کہ اگر انھیں صحیح طریقہ سے نافذ کیا جائے تو دنیا سے بد امنی کا نام و نشان مٹ جائے ، تاریخ شاہد ہے کہ جب ان قوانین پر عمل کیا گیا تو لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حیرہ سے ایک پردہ نشین خاتون بلا خوف و خطر مکہ مکرمہ جاتی ہے اور خانۂ کعبہ کا طواف کرکے امن و سکون کے ساتھ اپنے گھر واپس آجاتی ہے ، اور آج بھی جن مسلم ممالک میں اسلامی احکام نافذ ہیں وہاں جرائم کی تعداد دوسرے ممالک کی بنسبت بہت ہی کم ہے، اس واسطے یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین کا یہ پروپیگنڈا بالکل باطل ہے کہ حضرت محمد ﷺ دہشت گرد تھے اور اسلام دہشت گردی کا دین ہے اور قرآن میں شدت پسندی اور دہشت گردی کی تعلیم ہے ، در حقیقت یہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کر کے دنیا کو اسلام کی روشنی ،ایمان کی دولت اور امن وسکون عطا کرنے والے ربانی قوانین سے محروم کرنے کی ناپاک سازش ہے اور ہمیں یقین کامل ہے کہ ان شاء اللہ ان کی یہ سازش ہرگز کامیاب نہیں ہوگی ، اور باطل پرستوں کی پھونکوں سے اسلام کا چراغ ہرگز بجھایا نہیں جاسکے گا ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (التوبہ:32)وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ تعالٰی انکاری ہے مگر اسی بات کا کہ اپنا نور پورا کرے گو کافر ناخوش رہیں ۔
            الہ العالمین! تو اپنے دین کی حفاظت فرما ، اور قرآن مجید اور شانِ رسالت پرکوئی آنچ نہ آنے دے اور ہمیں اپنے حبیب اور آخر الزماں نبی حضرت محمد ﷺ اور اپنی آخری کتاب قرآن کریم کے دفاع کی توفیق عطا فرما،اور دشمنوں کی سازشوں کو خاک میں ملادے اور انھیں ذلیل و خوار کر ۔ اللّهم انصر الاسلام والمسلمين ،واخذل الکفرة والمشركين ، ودمر جميع اعداء الدين ،اللّهم انا نجعلک في نحورهم، ونعوذبک من شرورهم ، اللهم اكفنيهم بما شئت ، اللهم اكفنيهم بما شئت ، اللهم اكفنيهم بما شئت ، ربنا تقبل منا انک انت السميع العليم، وتب علينا انک انت التواب الرحيم، وصلِّ اللّهم وسلِّم علی عبدک ورسولک محمد، وعلی آله و أصحابه اجمعين.
                                                 وآخر دعوانا ان الحمدﷲرب العالمین.